تقسیم کا دعویٰ: وراثتی جائیداد کی تقسیم
جانشینی سرٹیفکیٹ یہ طے کرتا ہے کہ ورثاء کون ہیں۔ تقسیم کا دعویٰ یہ طے کرتا ہے کہ جائیداد اُن کے درمیان عملاً کیسے بانٹی جائے، اور یہی اُس وقت کا علاج ہے جب شریک ورثاء متفق نہ ہوں یا کوئی ایک پوری جائیداد پر قابض ہو۔

یہ ثابت کرنا کہ آپ وارث ہیں اور اپنا حصہ عملاً حاصل کرنا، دو الگ مسئلے ہیں۔ جانشینی سرٹیفکیٹ یا لیٹرز آف ایڈمنسٹریشن پہلے مسئلے کا جواب ہیں۔ جب شریک ورثاء جائیداد کی تقسیم پر راضی نہ ہوں، یا ان میں سے کوئی جائیداد میں رہ رہا ہو اور باقی محروم ہوں، تو اس کا قانونی علاج تقسیم کا دعویٰ ہے۔ ہر وارث کا حصہ جاننے کے لیے ہمارا وراثت کا حساب کتاب (انگریزی میں) استعمال کریں۔
تقسیم کا دعویٰ کب درست راستہ ہے
- شریک ورثاء وراثتی جائیداد کی تقسیم کے طریقے پر متفق نہیں
- ایک وارث اکیلا قابض ہے اور دوسروں کو باہر رکھ رہا ہے
- کوئی وارث اپنا حصہ وصول کرنا چاہتا ہے مگر باقی نہ فروخت پر راضی ہیں نہ اس کا حصہ خریدنے پر
- حصوں پر تنازع ہے، خاص طور پر جہاں وفات سے پہلے کسی مبینہ ہبہ یا منتقلی سے حصے بدلنے کا دعویٰ ہو
- ریونیو یا سوسائٹی ریکارڈ اب بھی مرحوم کے نام ہے اور باہمی رضامندی کے بغیر انتقال نہیں ہو سکتا
عدالت اصل میں کیا طے کرتی ہے
ترتیب وار دو سوال۔ پہلا، ہر وارث کا حصہ کتنا ہے، جو قابلِ اطلاق شخصی قانون کے تحت طے ہوتا ہے اور سنی اور شیعہ اصولوں میں مختلف ہو سکتا ہے۔ دوسرا، اُن حصوں کے مطابق جائیداد کو عملاً کیسے تقسیم کیا جائے۔
ابتدائی ڈگری حصوں کا اعلان کرتی ہے۔ حتمی ڈگری زمین پر تقسیم کو نافذ کرتی ہے، اکثر اس کے بعد جب عدالت معائنے اور قابلِ عمل تقسیم کی تجویز کے لیے کمیشن مقرر کرتی ہے۔
جب جائیداد کو تقسیم کرنا ممکن نہ ہو
کراچی کے زیادہ تر مقدمات میں یہی عملی مسئلہ ہے: ایک مکان یا فلیٹ کو ٹکڑوں میں نہیں بانٹا جا سکتا۔ جہاں جائیداد آسانی سے تقسیم کے قابل نہ ہو، وہاں عدالت اسے فروخت کرنے اور رقم حصوں کے تناسب سے تقسیم کرنے کا حکم دے سکتی ہے، اور بعض اوقات کسی شریک وارث کو باہر کے خریدار کے بجائے باقی ورثاء کا حصہ خریدنے کا موقع دیا جاتا ہے۔
یہ بات شروع میں سمجھ لینا توقعات کو بہت بدل دیتا ہے۔ جو ورثاء یہ سمجھتے ہیں کہ ایک چھوٹی رہائشی جائیداد میں ہر ایک کو الگ حصہ ملے گا، وہ اکثر حیران رہ جاتے ہیں۔
یہ مقدمات کہاں رک جاتے ہیں
- نامکمل ورثاء۔ ہر قانونی وارث کا عدالت کے سامنے ہونا ضروری ہے۔ کسی وارث کو فریق بنائے بغیر حاصل کی گئی ڈگری برسوں بعد دوبارہ کھولی جا سکتی ہے۔
- وفات سے پہلے کی متنازع منتقلیاں۔ مرحوم کی جانب سے وفات سے کچھ پہلے کیا گیا مبینہ ہبہ یا فروخت ان مقدمات کا سب سے زیادہ متنازع پہلو ہے، خاص طور پر جب اس کا اثر بیٹیوں یا بیوہ کو محروم کرنا ہو۔
- قبضہ اور کرایے کا معاوضہ۔ جہاں ایک وارث برسوں سے اکیلا قابض رہا ہو، وہاں دوسرے ورثاء جائیداد میں حصے کے علاوہ اس کی کرایہ کی قیمت میں حصہ (mesne profits) بھی مانگ سکتے ہیں۔
- تاخیر۔ طویل خاموشی عملاً دعوے کو کمزور کرتی ہے، چاہے قانونی حق برقرار ہو۔
مقدمے کے دوران جائیداد کا تحفظ
اگر خدشہ ہو کہ کوئی شریک وارث مقدمے کے فیصلے سے پہلے جائیداد فروخت یا منتقل کر دے گا، تو صرف تقسیم کا دعویٰ کافی نہیں: اس کے ساتھ فروخت روکنے کا حکمِ امتناعی بھی مانگا جانا چاہیے۔ دیکھیں ہمارا مضمون جائیداد پر اسٹے آرڈر۔
ساتھ کیا لائیں
- وفات کا سرٹیفکیٹ اور تمام قانونی ورثاء کی مکمل فہرست، جس کے لیے نادرا کا فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ عموماً نقطۂ آغاز ہے
- ترکے میں شامل ہر جائیداد کے ملکیتی کاغذات
- پہلے سے حاصل کردہ جانشینی سرٹیفکیٹ یا لیٹرز آف ایڈمنسٹریشن، اگر ہوں
- وفات سے پہلے مرحوم کی جانب سے کی گئی کسی منتقلی، ہبہ یا فروخت کی تفصیل
- کون قابض ہے اور کب سے
ورثاء کے پاس کتنا وقت ہے؟ تقسیم اور وراثت کے دعووں میں میعادِ سماعت
ورثاء سے اکثر کہا جاتا ہے کہ وراثت کے مقدمات میں میعاد کبھی شروع ہی نہیں ہوتی۔ یہ فرض کر لینا محفوظ نہیں، اور خود سپریم کورٹ کے فیصلے مختلف سمتوں میں اشارہ کرتے ہیں۔
Saadat Khan v. Shahid-ur-Rehman (PLD 2023 SC 362) میں عدالت نے ایک بہن کے اپنے بھائی کے خلاف استقرارِ حق کے دعوے پر قانونِ میعاد، 1908 (Limitation Act, 1908) کے آرٹیکل 120 کی چھ سالہ بقیہ (residuary) مدت لاگو کی۔ میعاد والد کی وفات سے یا محض کسی مسئلے کے اندیشے سے شروع نہیں ہوئی، بلکہ اس کے حقوق سے حقیقی انکار سے شروع ہوئی: کوئی واضح عمل جیسے فروخت، ہبہ، یا ایسا انتقال (mutation) جس میں درج ہو کہ اس نے اپنا حصہ منتقل کر دیا ہے۔ جہاں انکار کو دھوکہ دہی سے چھپایا گیا ہو، وہاں اسی قانون کی دفعہ 18 کے تحت میعاد کا آغاز دھوکہ دہی کا علم ہونے تک مؤخر ہو جاتا ہے، اگرچہ یہ تحفظ نیک نیت خریدار بالعوض (bona fide purchaser for value) کے خلاف دستیاب نہیں۔
دیگر فیصلے دونوں طرف جھکاؤ رکھتے ہیں۔ Mst. Grana v. Sahib Kamala Bibi (PLD 2014 SC 167) میں ایسی دعوے دار کو دادرسی دینے سے انکار کیا گیا جو دہائیوں تک خاموش رہی جبکہ زمین کئی ہاتھوں سے گزرتی رہی۔ اس کے برعکس، حال ہی میں جولائی 2026 میں رپورٹ ہونے والے Noor Muhammad v. Ghulam Haider میں سپریم کورٹ نے بیٹوں کے حق میں 1955 کا ہبہ کا انتقال کالعدم قرار دیا اور کہا کہ خواتین ورثاء کے ایسے دعوے محض تاخیر کی بنیاد پر رد نہیں کیے جانے چاہئیں۔ جب تک کوئی بڑا بنچ اس نکتے کو طے نہیں کرتا، نتیجہ حقائق پر اور اس بات پر منحصر ہو سکتا ہے کہ عدالت ان نظائر کو کس طرح پڑھتی ہے۔
ایک الگ خطرہ اگلی نسل سے متعلق ہے۔ جہاں کسی وارث نے اپنی زندگی میں اپنے حق کا دعویٰ ہی نہ کیا ہو، وہاں اس کی وفات کے بعد اس کے بچوں کے بارے میں قرار دیا جا سکتا ہے کہ انہیں یہ حق طلب کرنے کا قانونی استحقاق (standing) حاصل نہیں (Abdul Haq v. Mst. Surrya Begum، 2002 SCMR 1330، جسے سندھ ہائی کورٹ نے جنوری 2025 میں ایک عرضی دعویٰ مسترد کرتے ہوئے لاگو کیا)۔ عملی سبق یہ ہے کہ جیسے ہی شریک ورثاء واضح طور پر انکار کریں، دعویٰ دائر کریں، اور یہ ریکارڈ رکھیں کہ وہ انکار کب ہوا۔
جب کوئی شریک وارث کہے کہ باقیوں نے اپنے حصے چھوڑ دیے تھے
بہنوں کی جانب سے دائر کیے گئے تقسیم کے دعوے میں سب سے عام دفاع یہ ہوتا ہے کہ اب ان کا کوئی حصہ باقی ہی نہیں: انہوں نے تنازل نامہ پر دستخط کیے تھے، اپنا حصہ بھائیوں کو ہبہ کر دیا تھا، یا والد نے اپنی وفات سے پہلے جائیداد بیٹوں کو ہبہ کر دی تھی۔ دعویٰ شروع ہی سے اس دفاع کا جواب دینے کے لیے مرتب کیا جانا چاہیے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ تقسیم اور قبضے کی استدعا کے ساتھ ساتھ قانونِ دادرسیِ مخصوص، 1877 (Specific Relief Act, 1877) کی دفعہ 42 کے تحت استقرارِ حق اور دفعہ 39 کے تحت اس مخصوص دستاویز یا انتقال کی منسوخی کی استدعا بھی شامل کی جائے جس پر انحصار کیا جا رہا ہو، اور سوسائٹی یا ریونیو ریکارڈ کی درستی کی ہدایت بھی طلب کی جائے۔ تقسیم کی ایسی ڈگری جو دستبرداری کی دستاویز کو برقرار چھوڑ دے، مقدمہ بازی کے دوسرے دور کو دعوت دیتی ہے۔
اس کے بعد ثبوت کا بوجھ بھائیوں پر آ جاتا ہے۔ Ghulam Ali v. Mst. Ghulam Sarwar Naqvi (PLD 1990 SC 1) میں سپریم کورٹ نے خاتون وارث کی دستبرداری کو اسلامی پبلک پالیسی کے منافی قرار دیا، اور جون 2026 میں وفاقی آئینی عدالت نے Mst. Bibi Amina v. Shamsullah میں قرار دیا کہ کوئی عورت دستبرداری، صلح یا ہبہ کے ذریعے اپنی وراثت سے محروم نہیں ہو سکتی جب تک یہ ثابت نہ ہو کہ یہ رضاکارانہ تھا اور اس نے اسے پوری طرح سمجھا تھا۔ انتقال ملکیت کی دستاویز (document of title) نہیں ہوتا، اور زبانی ہبہ کا سختی سے ثبوت دینا ضروری ہے۔
جہاں محرومی میں دھوکہ دہی یا جعلی کاغذات شامل ہوں، وہاں تعزیراتِ پاکستان (Pakistan Penal Code) کی دفعہ 498A کے تحت شکایت، جو کسی عورت کو اس کی وراثت سے محروم کرنے پر سزا دیتی ہے، دیوانی دعوے کے ساتھ ساتھ چل سکتی ہے۔ ہماری رہنمائی جب بھائی حصہ دینے سے انکار کریں تو بہنیں کیا کر سکتی ہیں ان دستاویزات اور جمع کیے جانے والے ثبوتوں کا احاطہ کرتی ہے۔

عام سوالات
جانشینی سرٹیفکیٹ اور تقسیم کے دعوے میں کیا فرق ہے؟
جانشینی سرٹیفکیٹ یہ طے کرتا ہے کہ قانونی ورثاء کون ہیں اور انہیں مرحوم کے منقولہ اثاثے وصول کرنے کا حق دیتا ہے۔ تقسیم کا دعویٰ یہ طے کرتا ہے کہ جائیداد ان ورثاء میں عملاً کیسے بانٹی جائے۔ پہلا حق کی نشاندہی کرتا ہے، دوسرا اُن شریک ورثاء کے خلاف اسے نافذ کرتا ہے جو متفق نہ ہوں۔
اگر وراثتی جائیداد کو تقسیم کرنا ممکن نہ ہو تو کیا ہوتا ہے؟
جہاں جائیداد آسانی سے تقسیم کے قابل نہ ہو، عموماً ایک مکان یا فلیٹ، وہاں عدالت اسے فروخت کر کے رقم ہر وارث کے حصے کے تناسب سے تقسیم کرنے کا حکم دے سکتی ہے۔ بعض صورتوں میں کسی شریک وارث کو باہر فروخت کے بجائے دوسروں کا حصہ خریدنے کا موقع دیا جاتا ہے۔
کیا ایک وارث باقی ورثاء کی رضامندی کے بغیر وراثتی جائیداد بیچ سکتا ہے؟
ایک وارث عموماً اپنے غیر منقسم حصے کا تصرف کر سکتا ہے، مگر باقی شریک ورثاء کے بغیر پوری جائیداد فروخت نہیں کر سکتا۔ جہاں پوری جائیداد کی فروخت کا خطرہ ہو، وہاں تقسیم کے دعوے کے ساتھ ہی فروخت روکنے کا حکمِ امتناعی مانگنا چاہیے، منتقلی ہو جانے کے بعد نہیں۔
کیا تمام ورثاء کا مقدمے میں فریق ہونا ضروری ہے؟
ہاں۔ ہر قانونی وارث کا عدالت کے سامنے ہونا ضروری ہے۔ کسی وارث کو شامل کیے بغیر حاصل کی گئی تقسیم کی ڈگری بعد میں چیلنج ہو سکتی ہے، اسی لیے شروع میں ہی ورثاء کی مکمل فہرست قائم کرنا، عموماً نادرا کے فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ کے ذریعے، بہت اہم ہے۔
کیا جائیداد میں رہنے والے شریک وارث سے کرایہ مانگا جا سکتا ہے؟
مناسب صورتوں میں ہاں۔ جہاں ایک وارث اکیلا قابض رہا ہو، وہاں دوسرے ورثاء جائیداد میں اپنے حصے کے علاوہ اس کی کرایہ کی قیمت میں حصہ (mesne profits) بھی مانگ سکتے ہیں۔ کامیابی قبضے کے حقائق اور فریقین کے طرزِ عمل پر منحصر ہے۔
تقسیم یا وراثت کا دعویٰ دائر کرنے کے لیے میرے پاس کتنا وقت ہے؟
اس کا کوئی ایسا مقررہ جواب نہیں جس پر تمام عدالتیں متفق ہوں۔ سپریم کورٹ نے اس تاریخ سے شروع ہونے والی چھ سالہ مدت لاگو کی ہے جب شریک ورثاء نے کھلے عام آپ کے حصے سے انکار کیا، مثلاً جائیداد فروخت کر کے یا اس کا انتقال کروا کر، جبکہ دیگر بنچوں نے خواتین کے دعووں کو محض تاخیر کی بنیاد پر رد کرنے سے انکار کیا ہے۔ انکار واضح ہوتے ہی بلا تاخیر دعویٰ دائر کریں، اور اس بات کا ثبوت محفوظ رکھیں کہ انکار کب ہوا۔
میرا بھائی کہتا ہے کہ میں نے دستخط کر کے اپنا حصہ چھوڑ دیا تھا۔ کیا اب بھی تقسیم کا دعویٰ ممکن ہے؟
جی ہاں، لیکن دعوے میں عدالت سے یہ استدعا بھی کی جانی چاہیے کہ وہ اس دستاویز کو آپ کے خلاف غیر مؤثر قرار دے اور اسے منسوخ کرے۔ اس کے بعد آپ کے بھائی کو ثابت کرنا ہوگا کہ دستبرداری یا ہبہ رضاکارانہ تھا اور آپ نے اسے پوری طرح سمجھا تھا۔ والدین کی وفات سے پہلے دستخط کی گئی دستبرداری کا سرے سے کوئی قانونی اثر نہیں ہوتا۔
یہ مضمون پاکستانی قانون اور طریقہ کار کے بارے میں عمومی معلومات ہے، کسی خاص معاملے کے لیے قانونی مشورہ نہیں۔ اگر آپ کو اس سے متعلق کوئی مسئلہ درپیش ہے تو ہم سے رابطہ کریں، ہم آپ کے حقائق کے مطابق مشورہ دیں گے۔